عبداللہ ناظر

Abdullah Nazir
Download Font
Download Jemeel Nastaleeq Font جمیل نستعلیق فونٹ ڈاونلوڈ کریں
Main Menu
  • Home صفحہ اول
  • Ta'aruf تعارف
  • Inteqal انتقال پُرملال
  • Gohar گوہر شب تاب
  • Taar تار انفاس غزل
  • Mazameen مضامین
  • Ghair غیر مطبوعہ کلام
  • Audio آڈیو
  • Manzoom Ta'asurat منظوم تاثرات
Other Menu
  • Urdu Sites اردو سائِٹس
  • Recommend to your friend سائٹ سے احباب کو متعارف کرائیں
  • Guest Book گیسٹ بُک
  • Contact us ہم سے رابطہ کریں
Login



  • Forgot your password?
  • Forgot your username?
  • Create an account
Bluehost
Google
Weather
Jeddah weather
Click for Jeddah, Saudi Arabia Forecast

Abdullah Nazir عبداللہ ناظر

Introduction تعارف

PostDateIconWednesday, 28 October 2009 19:25 | PostAuthorIconWritten by Salem Bashwar | PDF Print E-mail

 

Download

 میرا مختصر تعارف

عبداللہ ناظرؔ

میرے والدِ مرحوم جناب عبدالرّحمن المعلّمی کا تعلق یمن سے تھا ،لیکن اُن کی عمر کا بیشتر حصّہ سعودی عرب میں گزرا۔ سعودی حکومت سے قبل حکومتِ رشید کے دوران وہ عسیر کے علاقہ میں قاضی القضاء کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور جب ہندوستان میں منتقل ہوئے تو بعض خدمات کے بعد دائرہ المعارف العثمانیہ میں عربی کتابوں کے مصحح کی حیثیت سے ملازم ہوئے ،جہاں اُنہوں نے تقریبا ۵۳ کتابوں کی تحقیق کی اور کئی کتابوں کے مؤلّف بھی ہوئے ۔  ۱۹۵۱ء میں وہ سعودی عرب کو روانہ ہوئے، جہاں مکّہ مکرّمہ میں حکومت کے کتب خانہ، مکتبہ الحرم الشریف میں امین المکتبہ کے رتبہ پر ملازم ہوئے ،جہاں تا حیات کام کرتے رہے۔


میرا نام ہے عبداللہ ولد عبدالرّحمن المعلمی اور تاریخ پیدائش،۲۳؍دسمبر۱۹۳۴ ء اور مکان پیدائش نبی خانہ ، پتّھر گٹّی حیدرآباد ، انڈیا ہے ۔ مختلف محلّوں کے کرایہ کے مکانوں میں منتقل ہوتے ہوتے آخری قیام گاہ محلّہ دبیر پورہ میں قرار پائی جو دبیر پورہ کے دروازہ اور ریلوے سٹیشن کے درمیاں تھی ۔ اس وقت میں چنچل گوڑہ فوقانیہ مدرسہ میں زیرِ تعلیم تھا ۔ ابھی آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ شعر کہنے لگ گیا ۔ میرے ایک بہت ہی عزیز دوست مرحوم مصلح الدین سعدی نے مجھے ہمارے محلہ کے ایک محترم شاعر جناب طالبؔ رزّاقی سے میرا تعارف کروایا اور اس وقت سے میں نے ان کے آگے زانوئے تلمّذ تہہ کیا ۔ مجھ سے پہلے ان کے شاگردوں میں جناب مرحوم خواجہ معین الدین لطفیؔ تھے اور میرے بعد جناب کلیمؔ قریشی جن کے نام خاص طور پرقابلِ ذکر ہیں اور ان کے بعد بہت سارے شاگرد ہوئے جن کے نام تفصیلی طور پر کلیمؔ قریشی نے اپنے دیوان ’’طورِ تغزّل‘‘ میں بیان کیے ہیں ۔


اس دور میں مجھے شاعری سے اس قدر لگاؤ ہوگیا تھا کہ کتب خانۂ آصفیہ میں مشہور شعراء کے سینکڑوں دیوان پڑھنے کی توفیق ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ کئی مشہور ادیبوں کے ناول اور افسانے پڑھ سکا ۔ پہلی مرتبہ میری غزل اردو کے روزنامہ اخبار ‘‘رہنمائے دکن ‘‘ میں شائع ہوئی اور اسی دن محترم علیؔ جلیلی صاحب جو، اب ڈاکٹر علیؔ جلیلی ہیں، ان کی غزل بھی شائع ہوئی تھی ۔میرے اُستاد طالبؔ رزّاقی کے ہم عصر اور قریبی دوستوں میں خیرات ندیم، اوجؔ یعقوبی، سعیدؔ شہیدی اورقمرؔ ساحری کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ اُن کے اُستاد علّامہ حیرت بدایونی تھے، جن کا شمار بہت سے عمر رسیدہ شعراء میں ہوتا تھا جیسا کہ نجمؔ امروہوی کاظم علی باغؔ ، نادر علی برترؔ ، نثار یارجنگ مزاجؔ ، دلاور علی عاصیؔ اور حضرت حبیب اللہ حلمی وغیرہ ۔ ان کے علاوہ کئی بزرگ مشہور شعراء تھے، بشمول کرشن پرشاد شادؔ اورامجدؔ حیدرآبادی کے، لیکن اس مختصر سے مضمون میں کس کس کا نام لیا جائے اور کس کس کا نام چھوڑاجائے ،کیونکہ ان کے ناموں اور مختصر سی سوانح عمری بیان کرنے کے لیے ایک کتاب مدوّن کرنی پڑے گی ۔ اس وقت جن شعراء کے نام مشاعروں کی صدارت کے لیے کثرت سے تجویز کیے جاتے تھے، وہ تھے علّامہ حیرتؔ بدایونی ، حضرت علی اخترؔ ،حضرت  عبدالقیّوم خاں باقیؔ ، شہید یارجنگ ، پروفیسر محی الدّین قادری زور،ؔ مخدوم محی الدّین اور صاحبزادہ میکشؔ کے نام ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے نام ہیں جن کا یہاں پوری طرح ذکر کرنا اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ا لبتّہ بہت سے ایسے شعراء جو اس وقت بہت مقبول تھے، ان کے نام کسی نہ کسی وجہ سے بالکل نہیں بھلائے جاسکتے۔ جیسے میکشؔ ، نظرؔ ، کنول پرشاد کنولؔ صدیقی، اوجؔ یعقوبی، طالبؔ رزّاقی ، سعیدؔ شہیدی ، قمرؔ ساحری، خاورؔ نوری ، حیدر علی صفاؔ ، حسن علی فغاںؔ ، رازؔ عابدی ، بیدارؔ نجفی ، حسنؔ چشتی ،اکبر علی خاں اکبرؔ ، میر کاظم علی برقؔ موسوی، سلیمان اریبؔ اور علیؔ جلیلی ۔ اس وقت کثرت سے مشاعروں میں شریک ہونے والے نوجوان غزل گو شاعر زبیرؔ رضوی تھے اور نوجوان ترقی پسند شعراء میں حمایت علی شاعراورعزیزؔ قیسی تھے ۔ یہاں اگر میں بعض ایسے نامور اور قد آور شعراء کا ذکر کروں تو بے جا نہ ہوگاجن کا تعلّق اضلاع سے تھا ،مثلا سکندر علی وجدؔ اور حضرت صفیؔ اورنگ آبادی اور میرے ایک عزیز دوست عبدالرّؤف عروجؔ کا بھی نام لیا جاسکتا ہے۔ ان کے علاوہ بیرون دکن سے پابندی سے مشاعروں میں آنے والے شعراء کی بھی تعداد کچھ کم نہ تھی۔ مثلا عامرؔ دیوبندی اور ان کے بھائی کے علاوہ جوشؔ ملیح آبادی، مجروحؔ سلطان پوری،شکیل بدایونی وغیرہ وغیرہ۔ اُس دور میں گو کہ میں مبتدی شاعر تھالیکن زود گو تھا۔جہاں ایک غزل کے لیے کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ ۷۱ شعار کی قید ہوتی ہے ،میں ایک دن او رایک رات میں تقریبا ۵۰ شعر کہہ دیتا تھا۔ لیکن مشاعرہ میں سنانے کے بعد سارا سرمایہ ضائع ہوجاتا تھا اور یہی سلسلہ۱۹۸۲ ء تک چلتا رہا، جب اپنی تھوڑی سی غزلیں جمع کرکے ایک دیوان بنامِ’’گوہرِ شب تاب ‘‘ شائع کرواسکااور اب دوسرا مجموعۂ کلام ترتیب دے چکا ہوں جو اگرخدا نے چاہا تو جلد ہی منظرِ عام پر آجائے گا ۔
 

عبداللہ ناظرؔ
جدّہ،سعودی عرب 

 

Mera mukhtaser ta・arruf (Abdullah nazir)

Mere walid, marhoom Abdur-Rehaman-Almoallimi ka talluq Yemen se tha, lekin unki umr ka beshtar hissa Saudi Arab mein guzra, Saudi hukumat se qabl Hukumat-e-Rasheed ke dauraan voh Aseer ke ilaqe mein Qazi al Qaza ki haisiyet se kaam karte the aur jab Hindustan mein muntaqil hue tou baaz qidmaton ke baad dair-al-maaruf Al Osmania mein arabi kitabon ke masiH ki haisiyet se mulazim hue jahan unho ne taqriban 35 kitabon ki tehqeeq ki aur kaii kitabon ke muallif  bhi hue, 1951 mein voh Saudi Arab ko rawana houye jahan Makkah mukarrama mein hukumat ke kitab khana / Maktaba Al Haram Al Shareef mein Ameen al Maktaba ke rutbe per mulazim houye jahan ta-hayaat kaam karte rahe.

Mera naam hai Abdullah wald Abdur-Rehman al Moallimi aur tareeq paidaish Dec.23rd, 1934, aur muqaam-e-paidaish Nabi khana Pathar gatti hyderabad/India. Abhi aaThwiN jamaat mein paRhta tha ke sheAr kehne lag gaya. Mere aek bohat hi azeez dost marhoom Muslehuddin Saadi ne mujhe humare mohalle ke aek mohtaram shayar Janaab Talib Razzaqi se mera ta'arruf karwaya aur us waqt se maine un ke aage zaan'ue talammiz tei kiya. Us daur mein mujhe shayari se is qadar lagao hogaya tha ke kutub khana Aasafiya mein mashoor sho'ara ke sainkaRoN deewan paRhne ki taufeeq hui aur saath hi saath kaii mashoor adeeboN ke novel aur afsane paRh saka. Pehli martaba meri ghazal urdu ke roznama akhbar "Rehnuma-e-Deccan" mein shaaye hui aur usi din mohtaram Ali Jaleeli sahib jou ab Dr. Ali Jaleeli hain un ki ghazal bhi shaaye hui thi. Mere ustad Talib Razzaqi ke hum asr aur qareebi dostoN mein Khairat Nadeem, Auj Yaqoobi, Saeed Shahidi aur Qamar Sahiri ke naam liye jasakte hain.

Us daur mein gou ke mubtadi shayar tha laikin zoodgou tha jahan aek ghazal ke liye kam az kam 5 aur ziyada se ziyada 8 ashaar ki qaid houti hai main aek din aur aek raat mein taqreeban 50 sheAr kehdeta tha, laikin moshaire mein sunaane ke baad saara sarmaya zaaye houjata tha aur yehi silsila 1982 tak chalta raha jab apni thoRi si ghazlein jama karke aek diwaan ba-naam "Gauhar-e-shabtaab" shaaye karwa saka aur ab doosra majmua-e-kalaam tarteeb de chuka hoon jou "taar-e-anfas-e-ghazal hai.

Abdullah Nazir

Jeddah....Saudi Arab

 

 

 

 

 

 

 

Last Updated (Thursday, 03 December 2009 19:52)

 

Customized & maintain by: Salem Ahmed Bashwar سالم احمد باشوار
All the material appearing on this web site can be freely distributed.

Designed by JB Joomla Templates.