Login
Page 058 گر مرے شوقِ ملاقات کا اندازہ ہو

غزل ۔ عبداللہ ناظرؔ
گر مرے شوقِ ملاقات کا اندازہ ہو
تجھکو ممکن ہے کسی بات کا اندازہ ہو
اہل بنیش کو سُجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
کیسے اندھوں کو بھلا رات کا اندازہ ہو
اِذن ساقی ہے تو رندانِ بلانوش بہت
کچھ مگر بزم خرابات کا اندازہ ہو
دائے کج فہمئی ملاّ کہ مُصِر ہے اس پر
بادلوں سے بھی نہ برسات کا اندازہ ہو
ہوں تیرے شہر میں بیگانہ احساسِ خودی
کس طرح سے مجھے حالات کا اندازہ ہو
کون اب کھوج کرے اس کی نجی باتوں کی
جس کی صورت سے خیالات کا اندازہ ہو
قربتِ یار بھی دُوری سے نہیں کم ناظرؔ
کیا اشارات و کنایات کا اندازہ ہو
گر مرے شوقِ ملاقات کا اندازہ ہو
تجھکو ممکن ہے کسی بات کا اندازہ ہو
اہل بنیش کو سُجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
کیسے اندھوں کو بھلا رات کا اندازہ ہو
اِذن ساقی ہے تو رندانِ بلانوش بہت
کچھ مگر بزم خرابات کا اندازہ ہو
دائے کج فہمئی ملاّ کہ مُصِر ہے اس پر
بادلوں سے بھی نہ برسات کا اندازہ ہو
ہوں تیرے شہر میں بیگانہ احساسِ خودی
کس طرح سے مجھے حالات کا اندازہ ہو
کون اب کھوج کرے اس کی نجی باتوں کی
جس کی صورت سے خیالات کا اندازہ ہو
قربتِ یار بھی دُوری سے نہیں کم ناظرؔ
کیا اشارات و کنایات کا اندازہ ہو
Last Updated (Thursday, 25 February 2010 13:19)



