Login
Page 055 میں کب سے کھرا ہوں آستاں پر

غزل ۔ عبداللہ ناظرؔ
میں کب سے کھڑا ہوں آستاں پر
رکھنا مرا کچھ خیال دیکھو
کہتے ہو کہ پھر کبھی ملیں گے
باقی ہی رہا سوال دیکھو
ہنستی ہے ہماری بے بسی پر
دنیا کا ذرا کمال دیکھو
ناکردہ گناہ پر ہمارے
کیاکیا نہیں قیل و قال دیکھو
اُڑنا ہے تو بال و پر سنبھالو
ہر سمت بچھے ہیں جال دیکھو
کانٹوں کی زباں پہ ترش روئی
پھولوں کے ہیں چہرے لال دیکھو
ہر عیب نہاں پہ پردہ ڈالو
ہر شئے کا خفی جمال دیکھو
کب تک یہ جنونِ دشتِ غربت
تھک کر میں ہوا نڈھال دیکھو
از رُوئے نشاطِ بزم ہستی
ناظرؔ کا ہے کیا مآل دیکھو
میں کب سے کھڑا ہوں آستاں پر
رکھنا مرا کچھ خیال دیکھو
کہتے ہو کہ پھر کبھی ملیں گے
باقی ہی رہا سوال دیکھو
ہنستی ہے ہماری بے بسی پر
دنیا کا ذرا کمال دیکھو
ناکردہ گناہ پر ہمارے
کیاکیا نہیں قیل و قال دیکھو
اُڑنا ہے تو بال و پر سنبھالو
ہر سمت بچھے ہیں جال دیکھو
کانٹوں کی زباں پہ ترش روئی
پھولوں کے ہیں چہرے لال دیکھو
ہر عیب نہاں پہ پردہ ڈالو
ہر شئے کا خفی جمال دیکھو
کب تک یہ جنونِ دشتِ غربت
تھک کر میں ہوا نڈھال دیکھو
از رُوئے نشاطِ بزم ہستی
ناظرؔ کا ہے کیا مآل دیکھو
Last Updated (Tuesday, 23 February 2010 14:19)



