Login
Page 054 دا اگر تا شام میخانے کا دروازہ نہ ہو

غزل ۔ عبداللہ ناظرؔ
دا اگر تا شام میخانے کا دروازہ نہ ہو
ڈر ہے ساقی منتشر رندوں کا شیرازہ نہ ہو
بے خبر آوارہ گم گشتہ پسِ روے سراب
مجھ پہ جو کستی ہے دنیا میرا آوازہ نہ ہو
کیفیت ہی کچھ عجب ہے حسنِ سنجیدہ مزاج
تیرے عارض پر سرورِ شوق کا غازہ نہ ہو
دشتِ غربت میں نہ چھیڑ اے ہمسفر گلشن کی بات
ذکرِ فصلِ گل سے زخمِ دل کہیں تازہ نہ ہو
جلوۂ جاناں سے نظریں خیرہ ہو کر رہ گئیں
عمر بھر کی خود فراموشی کا خمیازہ نہ ہو
یہ بھی کیا آزادئ گفتار ہے اے دوستو!
گرمئ سوزِ سخن ظالم کی طنازہ نہ ہو
کون سمجھائے گا ناظرؔ آئی ہے کیسی گھڑی
ظلمتِ شب کا اگر اندھوں کو اندازہ نہ ہو
دا اگر تا شام میخانے کا دروازہ نہ ہو
ڈر ہے ساقی منتشر رندوں کا شیرازہ نہ ہو
بے خبر آوارہ گم گشتہ پسِ روے سراب
مجھ پہ جو کستی ہے دنیا میرا آوازہ نہ ہو
کیفیت ہی کچھ عجب ہے حسنِ سنجیدہ مزاج
تیرے عارض پر سرورِ شوق کا غازہ نہ ہو
دشتِ غربت میں نہ چھیڑ اے ہمسفر گلشن کی بات
ذکرِ فصلِ گل سے زخمِ دل کہیں تازہ نہ ہو
جلوۂ جاناں سے نظریں خیرہ ہو کر رہ گئیں
عمر بھر کی خود فراموشی کا خمیازہ نہ ہو
یہ بھی کیا آزادئ گفتار ہے اے دوستو!
گرمئ سوزِ سخن ظالم کی طنازہ نہ ہو
کون سمجھائے گا ناظرؔ آئی ہے کیسی گھڑی
ظلمتِ شب کا اگر اندھوں کو اندازہ نہ ہو
Last Updated (Monday, 01 March 2010 14:45)



