Login
Page 053 کوچۂ یار میں بے شک میں کوئی غیر نہیں

غزل ۔ عبداللہ ناظرؔ
کوچۂ یار میں بے شک میں کوئی غیر نہیں
لوگ اس پر بھی یہ کہتے ہیں مری خیر نہیں
اس نے یہ کہہ کے مری حوصلہ افزائی کی
ڈوب جا بحرِ محبت میں کبھی تیر نہیں
دشتِ غربت میں شب و روز کی بے کیفی ہے
موسمِ گل نہیں گلشن کی بہم سیر نہیں
اتفاقاً کہیں مل جائیں تو پُوچھوں اُن سے
کس لیے اتنا تغافل ہے اگر بیر نہیں
بزمِ رنداں میں نہیں تفرقہ نسل و وطن
ہم کوئی غیر نہیں آپ کوئی غیر نہیں
جادۂ شوق میں ہے ان سے ہراساں ناظرؔ
جن بتوں کے لیے مخصوص کوئی دیر نہیں
کوچۂ یار میں بے شک میں کوئی غیر نہیں
لوگ اس پر بھی یہ کہتے ہیں مری خیر نہیں
اس نے یہ کہہ کے مری حوصلہ افزائی کی
ڈوب جا بحرِ محبت میں کبھی تیر نہیں
دشتِ غربت میں شب و روز کی بے کیفی ہے
موسمِ گل نہیں گلشن کی بہم سیر نہیں
اتفاقاً کہیں مل جائیں تو پُوچھوں اُن سے
کس لیے اتنا تغافل ہے اگر بیر نہیں
بزمِ رنداں میں نہیں تفرقہ نسل و وطن
ہم کوئی غیر نہیں آپ کوئی غیر نہیں
جادۂ شوق میں ہے ان سے ہراساں ناظرؔ
جن بتوں کے لیے مخصوص کوئی دیر نہیں
Last Updated (Monday, 01 March 2010 14:43)



